چنئی،20/جنوری (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کی جانب سے CAA,NRCاور NPRکے خلاف ملک گیر مہم 'کاغذ نہیں دکھائیں گے 'کے ایک حصے کے طور پر کیرلا اور تمل ناڈو میں 17اور18جنوری2020کو گورنر ہاؤس مارچ کا انعقاد کیا گیا۔کیرلا میں مذکورہ مارچ کاسر گوڈ تا گورنر ہاؤس کے قریب پہنچ کر ختم ہوا۔مارچ کی صدارت کیرلا ریاستی صدر عبدالمجید فیضی نے کیا۔اس مارچ میں ریاستی نائب صدر ایم کے منوج کمار، ریاستی جنرل سکریٹری پی عبدالحمید،ریاستی سکریٹری مصطفی امان، ریاستی خازن اجمل اسماعیل،تلسی درن، مصطفی کمیری اور مہمان خصوصی کے طور پر ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید شریک رہے۔تمل ناڈو میں چنئی ریس کورس سے مارچ کا آغاز ہوا اور گورنر ہاؤس کے قریب اختتام کو پہنچا۔ اس ریالی میں ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر محمد مبارک، ریاستی نائب صدر امجد باشاہ، ریاستی جنرل سکریٹریان نظام محی الدین، عبدالحمید، اے ایس عمر فاروق، ریاستی سکریڑیان امیر حمزہ، رتھنم، احمد نقوی اور ریاستی ورکنگ کمیٹی اراکین اے کے کریم، شفیق احمد، راجہ محمد، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ریاستی نائب صدر محمد شیخ انصاری، ایس ڈی ٹی یو کے ریاستی صدر محی الدین، اڈوکیٹ ونگ کے ریاستی صدر جہانگیر باشاہ، ٹی ایم ایم کے سے محمد حنیفہ، ایم ایم کے سے عبدالحمید اور مہمان خصوصی کے طور پر ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی شریک رہے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر محمد مبارک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بی جے پی حکومت نے قومی شہریت بل منظور کرانے کے بعدوزیر داخلہ امیت شاہ نے اسے آسام کی طرح پورے ملک میں نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مودی حکومت نے کہا کہ اس طرح کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن این آر سی کیلئے پہلا قدم مانا جانے والا NPRکے تعلق سے بی جے پی حکومت نے کارروائی شروع کردی ہے۔ جبکہ مرکزی حکومت کہہ رہی ہے کہ NPRاور NRCمیں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے دفعات اور متعدد اعلانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا کہ اب NRC شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ کھبی بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔ محمد مبارک نے مزید کہا کہ NRCاورNPRسے صرف متاثر مسلمان ہی متا ثر نہیں ہونگے تمام طبقے کے لوگوں کو دستاویزات جمع کرنے تک بڑی جدوجہدکرنا پڑے گی۔NPRکیلئے بغیر دستاویزات کے پہلے معلومات حاصل کرنے کے بعد اگر تصدیق کرنے والے افسران دستاویزات مانگیں گے تو ہمیں مجبور ا دینا ہی پڑ ے گا۔ جس کے بعد دستاویز ات جمع نہ کرنے والوں کو شہریت سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ لہذا، ملک کو تقسیم کرنے والے ان قوانین کو لانے والی مرکزی حکومت اور اس کی حمایت کرنے والی تمل ناڈو حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اور CAA,NRCاور NPRکو واپس لینے اور اس کے خلاف تمل ناڈواسمبلی میں قرارداد منطور کرنے کے مطالبے کو لیکرآج ایس ڈی پی آئی نے اس ریالی کا انعقاد کیا ہے۔ جب تک یہ قوانین واپس نہیں لئے جاتے تب تک ایس ڈی پی آئی عوام کو متحر ک کرتے رہی گی اور ملک کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کیلئے مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اس ریالی میں خواتین سمیت ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عوام شریک رہے۔